ABOUT US

چوشال کی وجہ تسمیہ

چوشال مشتق ہے چار شالوں (یعنی چار چادروں سے)اور چار شالیں مشتق ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے چوگوشیہ سے اور چوگوشیہ کی حقیقت اصل میں چارکلاہ سے وابستہ ہے.یہ چارکلاہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاہوئے.اور فرمان الہٰی ہوا کہ اے محمد ؐ ان کلاہ کو پہلے اپنے سرمبارک پر رکھیں اور پرجسے چاہیں عطافرماکراپناخلیفہ مقررفرمائیں.پھرجناب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان میں سے یک گوشیہ کلاہ جناب حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطافرمایا دوسرا دوگوشیہ کلاہ جناب حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطافرمایا.تیسرا سہ گوشیہ کلاہ جناب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطافرمایا.اور چوتھاچار گوشیہ کلاہ جناب علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہالکریم کو اپنے دست پاک سے پہناکرفرمایاکہ اے علی مجھے فرمان الہٰی اس طرح سے ہواتھاکہ چوگوشیہ گلاہ علی کو عنایت فرمایاجائے اے علی یہ کلاہ آپ کاہے صوفیامیں سے جس چاہیں عطافرمائیں.پھروہ کلاہ روحانی طورپر حضرت باباچوشال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو عطاہوا جس کے ساتھ چارشالیں بھی عنایت ہوئیں.چوشال کا اصل لفظ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے چوگوشیہ کلاہ سے ہے.جب آپ ؑ نے وہ چوگوشیہ حضرت باباچوشال کو عطافرمایا تو چوگوشیہ سے چوشال ہوا.سب سے پہلے لفظ چوشال حضرت بابا چوشال ؒ کی مرشد محترم جناب سیدغوث علی شاہ قلندر قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (پانی پتی)کی زبان مبارک سے اس وقت ادا ہوا جب چار شالیں (یعنی چار خلافتیں)چارنعمتیں.چارفیضان بدست جنابحضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم.حضور غوث الاعظم دستگیررحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اورچار مختلف اولیائے کرام رحمۃ اللہ علیھم کی طرف سے عطاء ہونے کے بعد جب آپ اپنے مرشد کریم کے قدموں میں حاضرہوئے تو آپ نے فرمایاکے باباچوشال (یعنی چارشالوں والابابا)آگیا اور آپ کے مرشد کے منہ مبارک سے نکلے ہوئے یہ الفاظ قیامت تک کے لیئے ہرکسی کی زبان پر جاری ہونے کے ساتھ ساتھ باباچوشال کو ملنے والے فیض کی بدولت سلسلہ عالیہ چوشالیہ کی بنیادبنے.اور پھر دربارِ عالیہ جناب سیدغوث علی شاہ قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میں موجود تمام لوگوں نے باباچوشال کو ان ہی الفاظ کے مبارک باد پیش کی.پھرباباجن کا نام ان کے والدین نے سالارکھاتھاباباچوشال بن گیااور پھر ان ہی کے مرشدکی بارگاہ سے نکلنے کے بعد آپ نے جہاں کہیں بھی قدم رکھا قدرتی طور پر لوگوں کی زبانوں میں باباچوشال، باباچوشال کالفظ چڑھ گیانفس شریف کی برکت سے ہندوؤں کی جبڑی کو(چوشال کہاجانے لگا.تفصیلات اگلے صفحات پر ملاحظہ ہوں. حضرت علی علیہ السلام کا فیضان چوگوشیہ‘ چاراورلیائے کرام کا روحانی فیضان اور پھر آپ کے مرشدمحترم جناب سیدغوث علی شاہ قلندرقادری رحمۃ اللہ کا فیضِ لازوال کے بعد آپ کے مرشد کریم کی زبان مبارک سے نکلنے والے الفاظ”باباچوشال“ نے فیضان کے اس سلسلے کا اجراء کردیاکہ جب آپ ؒ نے تبلیغ کی شروعات کیں تو آپ ؒ جس جس علاقے میں قدم رکھتے وہاں کے لوگ آپ ؒ کو باباچوشال کہہ کرپکارتے اورپھر اسی مناسبت سے پورے علاقے کا نام بھی جبڑی چوشال مشہورہوگیا جو آج تک اسی نام سے جاناجاتاہے.